محلہ دار

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - محلے والا؛ (مجازاً) محلے کا چودھری یا مکھیا، میر محلہ، محلے کا بڑا آدمی۔ "کوتوال نے شہر کے ہر ایک محلہ دار کو اپنے سامنے بلا کر دریافت حال کیا۔"      ( ١٩٥٩ء، برنی (سید حسن)، مقالات، ٢١٥ ) ٢ - انگریزی شہروں میں میر بلدہ سے دوسرے درجہ کا عہدہ دار۔ (پلیٹس) ٣ - کسی محلے کا رہنے والا، ایک محلے کا رہنے والا، ہم محلہ، جس کا گھر بار ہو۔ "پڑوسیوں، محلہ داروں، جاننے والوں نے ہمیشہ اپنے کاموں میں ان سے مشورہ کیا۔"      ( ١٩٩٤ء، ڈاکٹر فرمان فتح پوری، حیات و خدمات، ٣٢:١ )

اشتقاق

عربی زبان سے ماخوذ اسم 'محلہ' لگا کر فارسی مصدر 'داشتن' سے مشتق صیغہ امر 'دار' لگانے سے مرکب 'محلہ دار' بنا۔ اردو میں بطور اسم نیز صفت مستعمل ہے۔ ١٧١٨ء کو "دیوان آبرو" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - محلے والا؛ (مجازاً) محلے کا چودھری یا مکھیا، میر محلہ، محلے کا بڑا آدمی۔ "کوتوال نے شہر کے ہر ایک محلہ دار کو اپنے سامنے بلا کر دریافت حال کیا۔"      ( ١٩٥٩ء، برنی (سید حسن)، مقالات، ٢١٥ ) ٣ - کسی محلے کا رہنے والا، ایک محلے کا رہنے والا، ہم محلہ، جس کا گھر بار ہو۔ "پڑوسیوں، محلہ داروں، جاننے والوں نے ہمیشہ اپنے کاموں میں ان سے مشورہ کیا۔"      ( ١٩٩٤ء، ڈاکٹر فرمان فتح پوری، حیات و خدمات، ٣٢:١ )

جنس: مذکر